اڈپی ،14؍ اپریل (ایس او نیوز) اڈپی کے ہوٹل شمبھاوی میں زہر کھا کر خود کشی کرنے والے ٹھیکیدار سنتوش پاٹل کی لاش کا پوسٹ مارٹم منی پال کے کے ایم سی اسپتال میں خود کشی کے 32 گھنٹوں بعد عمل میں آیا۔
چونکہ مہلوک سنتوش کے بھائی ، بیوی اور دیگر اہل خانہ کی ہدایت مطابق ان لوگوں کے بنگلورو سے اڈپی پہنچنے تک لاش کو ہوٹل کے کمرے سے باہر نہیں لایا گیا تھا ۔ ان لوگوں کے آنے کے بعد سیل کیا گیا کمرہ کھولا گیا اور پنچ نامہ اور فارنسک جانچ کی کارروائی شروع کی گئی ۔ لیکن اس دوران سنتوش کے گھر والوں نے یہ ضد پکڑلی کہ انہوں نے اپنی شکایت میں جن لوگوں کے نام خودکشی کے لئے ذمہ دار طور پر درج کروائے ہیں پہلے ان کو گرفتار کیا جائے اس کے بعد ہی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے روانہ کی جائے ۔ چونکہ موت واقع ہونے کو 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا اور لاش سڑنے کی حالت میں پہنچ گئی تھی اس لئے پولیس کے اعلیٰ افسران قصورواروں کے خلاف کارروائی کا یقین دلاتے ہوئے بڑی مشقت کے بعد گھر والوں کو راضی کیا جس کے بعد 3 گھنٹے تک پوسٹ مارٹم کی کارروائی چلی اور لاش کو اہل خانہ کے حوالے کیا گیا ۔
مغربی زون کے آئی جی پی دیوجیوتی رے نے بتایا کہ سنتوش پاٹل کے رشتہ داروں کی طرف سے درج کروائی گئی شکایت کے مطابق کے ایس ایشورپّا اور دو شناسا افراد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ہر زاویہ سے اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کی جائے گی ۔ ہم نے پہلے نارمل موت کا معاملہ درج کیا تھا ۔ اب شکایت ملنے کے بعد خودکشی کا کیس درج کر لیا ہے ۔ مہلوک کے رشتہ داروں کی موجودگی میں ہی تمام چیزوں کا معائنہ کیا گیا ہے ۔ اطراف میں پائی جانے والی تمام چیزیں تحویل میں لے لی گئی ہیں ۔ تحقیقاتی ٹیم میں کے ایم سی اور منگلورو کے فارنسک ماہرین شامل ہیں ۔
سنتوش کے بھائی پرشانت پاٹل نے بتایا کہ اڈپی ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ نے پوری تحقیقات کرتے ہوئے قصور واروں کو گرفتار کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ اس لئے ہم لاش کو اپنی تحویل میں لینے پر راضی ہوئے ۔ اپنے گاوں پہنچ کر خاندان والوں سے رائے مشورہ کے بعد اگلا اقدام کیا جائے گا ۔